قدیم مصر کی زمین پر دریائے نیل بہتا تھا، زرخیز زمین، اونچے اونچے محل اور طاقتور بادشاہت اس کی پہچان تھی۔ وہ دور جب دنیا پر ظلم و جبر کی تاریکیاں چھائی ہوئی تھیں، اور انسان انسان کا خون پی رہا تھا، اس وقت ایک ایسا شخص حکومت کر رہا تھا جس نے خود کو خدا کہلوانا شروع کر دیا۔ وہ شخص فِرعَون تھا۔ اُس کی رعونت، غرور اور تکبر نے اسے اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ کہتا، “میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں!”۔ اُس کے دربار میں ہزاروں غلام، سپاہی اور جادوگر موجود تھے، مگر اس کے دل میں ایک ایسی وحشت چھپی تھی جو کسی بھی سچے رب کے منکر کے اندر ہوتی ہے۔ فِرعَون نے بنی اسرائیل پر ظلم کی انتہا کر دی تھی۔ یہ وہی قوم تھی جو حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھی۔ انہیں غلام بنا کر رکھا گیا، ان سے جبری مشقت کروائی جاتی، اور ذرا سی خطا پر کوڑوں کی بارش کی جاتی۔ فِرعَون کی سرزمین پر چیخیں گونجتی رہتیں، مگر اُس کے کانوں تک نہ پہنچتیں۔ ایک دن فِرعَون نے خواب دیکھا کہ ایک بنی اسرائیلی مرد اس کی سلطنت کو ختم کر دے گا۔ کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیرے زوال کی نشانی بنے گا۔ فِرعَون نے فوراً حکم جاری کیا کہ بنی اسرائیل کے ہر نومولود لڑکے کو قتل کر دیا جائے، اور صرف لڑکیوں کو زندہ چھوڑا جائے۔ اسی ظالمانہ حکم کے دوران اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں وحی ڈالی کہ وہ اپنے بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں بہا دیں۔ ایک ماں کے لیے اپنے لختِ جگر کو یوں سپردِ دریا کرنا آسان نہ تھا، مگر اللہ کا وعدہ پختہ تھا کہ "ہم اسے تجھے واپس لوٹائیں گے اور اسے اپنے رسولوں میں سے بنائیں گے۔" دریا کا پانی بہتا گیا اور وہ صندوق فِرعَون کے محل کے قریب آ کر رُک گیا۔ فِرعَون کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے جب اس بچے کو دیکھا تو اس کا دل موم ہو گیا۔ اُس نے فِرعَون سے کہا، "یہ بچہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔" فِرعَون اپنی بیوی کی بات مان گیا اور یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام فِرعَون کے ہی محل میں پروان چڑھنے لگے۔ جب موسیٰ علیہ السلام بڑے ہوئے تو ایک دن انہوں نے دیکھا کہ ایک مصری سپاہی ایک بنی اسرائیلی غلام کو مار رہا ہے۔ جوش میں آ کر موسیٰ علیہ السلام نے سپاہی کو ایک گھونسا مارا جس سے وہ مر گیا۔ خوفزدہ ہو کر آپ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف نکل گئے، جہاں آپ نے ایک نبی حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کی مدد کی اور بعد میں انہی میں سے ایک سے نکاح کیا۔ کچھ برس بعد اللہ نے انہیں نبوت عطا فرمائی۔ جب آپ وادیِ طور پر پہنچے تو ایک نورانی منظر دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے کلام فرمایا، "اے موسیٰ! میں ہی تیرا رب ہوں، اپنے جوتے اتار دے، تو پاک وادیِ طُویٰ میں ہے۔" پھر اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ واپس مصر جائیں اور فِرعَون کو میرا پیغام پہنچائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، "یا رب! میرا سینہ کھول دے، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، اور میرے ساتھ میرے بھائی ہارون کو بھی بنا دے۔" اللہ نے ان کی دعا قبول کی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام مصر واپس آئے، اور فِرعَون کے دربار میں جا کر کہا، "ہم رب العالمین کے رسول ہیں، بنی اسرائیل کو آزاد کر دو۔" فِرعَون ہنسنے لگا، "کیا تم وہی موسیٰ ہو جو میرے محل میں پلا بڑھا اور میرے ہی آدمی کو مار کر بھاگ گیا؟" موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا، "میں نے وہ کام نادانی میں کیا، مگر اب میں اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔" فِرعَون نے اپنی طاقت کے غرور میں کہا، "اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی دکھاؤ!" موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ ایک عظیم اژدھا بن گیا، پھر اپنا ہاتھ نکالا تو وہ چمکنے لگا جیسے سورج۔ مگر فِرعَون نے کہا، "یہ تو جادو ہے!" اس نے اپنے ملک بھر کے جادوگروں کو بلا لیا۔ ہزاروں لوگ اکٹھے ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں، وہ سانپوں کی طرح حرکت کرنے لگیں۔ مگر جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ سب نگل گیا۔ جادوگر فوراً سجدے میں گر گئے اور بولے، "ہم ربِ موسیٰ و ہارون پر ایمان لاتے ہیں!" فِرعَون کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے کہا، "میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا!" مگر ایمان والے جادوگروں نے کہا، "تو جو چاہے کر لے، ہم اپنے رب سے ہرگز منہ نہیں موڑیں گے۔" اس واقعے کے بعد فِرعَون نے بنی اسرائیل پر ظلم مزید بڑھا دیا۔ مگر اللہ نے اس پر عذابوں کی لہر بھیج دی — خون، مینڈک، جوئیں، طوفان اور ٹater کی شکل میں۔ مگر ہر بار وہ وعدہ کرتا کہ وہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے گا، اور عذاب ٹلنے کے بعد پھر مکر جاتا۔ آخرکار اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کو راتوں رات مصر سے نکال لے جائیں۔ جب بنی اسرائیل نکل گئے تو فِرعَون کو خبر ملی۔ وہ اپنی فوج کے ساتھ ان کے پیچھے دوڑ پڑا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام دریائے قلزم (بحرِ قلزم) کے کنارے پہنچے تو پیچھے فِرعَون کی فوج تھی اور آگے سمندر۔ بنی اسرائیل خوفزدہ ہو گئے۔ مگر موسیٰ علیہ السلام نے کہا، "ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔" اللہ نے حکم دیا کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ پانی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ بنی اسرائیل اس راستے سے گزر گئے۔ جب فِرعَون اپنی فوج کے ساتھ اسی راستے پر داخل ہوا تو سمندر دوبارہ اپنے حال پر آ گیا۔ فِرعَون اور اس کی فوج ڈوبنے لگی۔ مرنے کے وقت فِرعَون نے کہا، "میں ایمان لاتا ہوں اُس خدا پر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔" مگر اللہ نے فرمایا، "اب ایمان لاتا ہے، جبکہ تو نے پہلے نافرمانی کی؟ آج ہم تیرے جسم کو محفوظ رکھیں گے تاکہ تو بعد والوں کے لیے نشانِ عبرت بن جائے۔" یوں وہ شخص جس نے کہا تھا “میں خدا ہوں” ذلت کے ساتھ غرق ہوا، اور اُس کا بدن آج بھی مصر کے عجائب گھر میں عبرت کے طور پر موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سمندر پار کر کے محفوظ ہو گئی۔ مگر یہ قوم پھر بھی شکر گزار نہ رہی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ سے ہمکلام ہونے گئے تو بنی اسرائیل نے سامری کے بہکانے پر سونے کا بچھڑا بنا کر پوجنا شروع کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام واپس آئے تو غضبناک ہو گئے۔ اُنہوں نے اپنی قوم کو ڈانٹا، اور سامری کو سزا دی۔ مگر وہ دل جو ایمان کے بعد شک میں پڑ جائیں، ان پر رہنمائی بھی اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا فرمائی، جس میں ہدایت، قانون اور روشنی تھی۔ مگر بنی اسرائیل نے بارہا نافرمانی کی، اور یہ سلسلہ صدیوں تک جاری رہا۔ فِرعَون کی کہانی صرف تاریخ نہیں، یہ ہر دور کے ظالموں کے لیے پیغام ہے۔ وہ شخص جو خود کو خدا سمجھتا تھا، آج اس کا وجود ایک لاش کی صورت میں دنیا کے سامنے پڑا ہے، مگر اس کی روح پر ہمیشہ کے لیے لعنت ثبت ہو چکی ہے۔ دنیا کی بادشاہت، محل، خزانے، جادو اور تخت و تاج — سب ختم ہو گئے۔ مگر اللہ کا فرمان باقی رہا۔ جو ربِ موسیٰ ہے، وہی ربِ کائنات ہے۔ اس نے ظالم کو مٹا دیا اور مظلوم کو عزت بخشی۔ فِرعَون ڈوبا، مگر اس کا انجام انسانیت کے لیے ایک زندہ مثال بن گیا کہ جب غرور حد سے بڑھ جائے، تو سمندر بھی خدا کے حکم سے راستہ بدل دیتا ہے۔
