یہ المناک واقعہ ہر والدین کے لیے ایک کھلی آنکھ اور گہری نصیحت ہے۔ میں یہ تحریر اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ ہر ماں باپ کو احساس ہو کہ ہمارے معاشرے میں حالات کس حد تک بدل گئے ہیں، اور ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ --- قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی یہ کہانی کراچی کے علاقے لانڈھی کی ہے، اور اس نے میرے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔
ایک معصوم سات سالہ بچہ سعد، جو اپنی معصومیت اور چہل پہل کے ساتھ گھر کی رونق تھا، 18 ستمبر کے روز اپنے ہی محلے سے لاپتہ ہو گیا۔ یہ دن اس کے اسکول کا پہلا دن تھا۔ اسکول سے واپس آیا، پھر ٹیوشن گیا۔ چھٹی کے بعد اپنی ماں سے صرف 20 روپے لیے تاکہ چیز لینے جا سکے۔ لیکن اس کے بعد وہ کبھی واپس نہ آیا۔ گھر والے، رشتہ دار، محلے کے لوگ اور پولیس سب اسے تلاش کرتے رہے۔ پانچ دن کی انتھک کوشش کے بعد 23 ستمبر کو، محلے سے دو گلیاں دور ایک ڈمپر میں اس معصوم کا بے جان جسم ملا۔ ماں باپ کی چیخیں، اُن کا درد اور بے بسی کا عالم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ --- اصل حقیقت جو دل دہلا دے تفتیش کے دوران یہ بھیانک حقیقت سامنے آئی کہ سعد کے ساتھ نہ صرف زیادتی کی گئی بلکہ جان بھی لے لی گئی۔ سب سے دل کو کاٹ دینے والی بات یہ تھی کہ یہ گھناؤنے جرم کے مرتکب کوئی اجنبی نہیں بلکہ سعد کے اپنے محلے کے دو لوگ نکلے۔ یہی وہ لوگ تھے جو پانچ دن تک ڈھونڈنے کا ڈرامہ کرتے رہے، والدین کے ساتھ ہمدردی جتاتے رہے اور در حقیقت اپنے جرم کو چھپاتے رہے۔ پولیس حراست میں آ کر اُن درندوں نے اعتراف کیا کہ اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد سعد کو ڈمپر میں پھینک دیا تھا۔ --- میرا دل کہتا ہے… یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ میں ہر والدین سے، ہر گھر کے بڑے سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے بچوں پر ہر وقت گہری نظر رکھیں۔ اب وہ دور نہیں رہا کہ محلے والے آپ کے بچے کو اپنا بچہ سمجھیں۔ اپنے بچوں کو اعتماد دیں، ان سے دوستی کریں، انہیں سمجھائیں کہ اگر کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، کوئی غلط بات یا حرکت کرے تو فوراً آپ کو بتائیں۔ اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نگاہ رکھیں۔ یہ صرف سعد کی کہانی نہیں، یہ ہم سب کے لیے ایک انتباہ ہے۔ --- یہ میرا دل کا درد ہے جو میں آپ تک پہنچا رہا ہوں۔ خدارا اپنے معصوم بچوں کی حفاظت کو اپنی سب سے بڑی ترجیح بنائیں۔
