حضرت داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل دراصل حضرت یعقوب علیہ السلام (جنہیں اسرائیل بھی کہا جاتا ہے) کی اولاد تھی۔ اس خاندان سے ہی بہت سے انبیاء پیدا ہوئے، جیسے حضرت یوسفؑ، موسیٰؑ، ہارونؑ، یحییٰؑ، زکریاؑ، عیسیٰؑ اور داؤدؑ و سلیمانؑ علیہم السلام۔ حضرت داؤدؑ کا زمانہ حضرت موسیٰؑ کے کئی سو سال بعد کا ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل میں بگاڑ او
ر کمزوری آ چکی تھی، وہ اللہ کے احکام سے ہٹ گئے تھے، اور دشمن قوموں کے غلام بن چکے تھے۔ اللہ نے انہی میں سے داؤدؑ کو چنا تاکہ وہ قوم کو دوبارہ راہِ حق پر لائیں اور عدل و ایمان کا نظام قائم کریں۔ یہودی روایات میں حضرت داؤدؑ کو "کنگ ڈیوڈ" کہا جاتا ہے۔ وہ یہودی تاریخ میں ایک عظیم بادشاہ اور روحانی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہودی مذہبی کتاب “تورات” میں بھی بہت تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ یہودی انہیں اپنی “مثالی قیادت” کی علامت سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے دور میں بنی اسرائیل متحد ہوئے، یروشلم ان کا مرکز بنا، اور ان کی حکومت مضبوط ہوئی۔ اللہ نے داؤدؑ کو نبوت اور بادشاہت دونوں دی تھیں — یعنی وہ نبی بھی تھے اور حکمران بھی۔ یہ مقام بہت کم انبیاء کو حاصل ہوا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: > “اور ہم نے داؤد کو حکومت اور حکمت دی، اور فیصلہ کرنے کی قوت عطا کی۔” (سورۃ ص، آیت 20) یہودیوں کے نزدیک حضرت داؤدؑ وہ بادشاہ تھے جنہوں نے “خدا کی بادشاہت” کو زمین پر قائم کیا۔ انہوں نے یروشلم کو فتح کیا، اور اسے “دارالسلطنت” بنایا۔ اسی شہر میں بعد میں ان کے بیٹے حضرت سلیمانؑ نے “بیت المقدس تعمیر کیا، جو آج بھی دنیا کے سب سے مقدس مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہودی مذہب میں حضرت داؤدؑ کی ایک خاص نشانی "ستارۂ داؤد" ہے، جو آج اسرائیل کے قومی جھنڈے پر بھی موجود ہے۔ اصل میں یہ ایک چھ کونوں والا ستارہ ہے، جو یہودی قوم کے لیے طاقت اور اتحاد کی علامت مانا جاتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ اسلام میں اس نشان کی کوئی مذہبی حیثیت نہیں ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے حضرت داؤدؑ کو اللہ کے نبی، نیک بندے اور عادل بادشاہ کے طور پر مانا جاتا ہے۔ قرآن میں ان کا ذکر تقریباً 16 مقامات پر آیا ہے۔ مسلمان یہ نہیں مانتے کہ وہ یہودیوں کے نبی تھے صرف ان کے لیے، بلکہ وہ اللہ کے نبی تھے جنہیں تمام بنی اسرائیل کے لیے بھیجا گیا۔ جبکہ یہودیوں کے نزدیک داؤدؑ کی حکومت "خالص یہودی بادشاہت" تھی، جسے وہ آج بھی یاد کرتے ہیں اور “داؤدی سلطنت کی بحالی کا انتظار کرتے ہیں۔ یہی عقیدہ بعد میں “یہودی نجات دہندہ” کے تصور سے جڑا — وہ سمجھتے ہیں کہ آخر زمانے میں داؤدؑ کی نسل سے ایک شخص آئے گا جو دنیا پر انصاف قائم کرے گا۔ اسلام اس عقیدے کو درست نہیں مانتا، بلکہ قرآن بتاتا ہے کہ آخری نجات دہندہ حضور محمد ﷺ ہیں، اور ان کے بعد کوئی نبی یا بادشاہ اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا۔ مختصر یہ کہ: حضرت داؤدؑ یہودیوں کے جدی نبی اور ان کے بادشاہ تھے۔ وہ بنی اسرائیل میں عدل، ایمان اور وحدانیت کے داعی بن کر آئے۔ یہودی قوم انہیں اپنے قومی ہیرو کے طور پر مانتی ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک وہ اللہ کے سچے نبی تھے، جن پر زبور نازل ہوئی۔ ان کا اور یہودی قوم کا رشتہ خاندانی اور قومی تھا — یعنی وہ انہی میں سے تھے، لیکن ان کی دعوت صرف یہودی قوم نہیں بلکہ ایمان کی طرف تھی۔
