قومِ عاد عرب کے قدیم ترین قبائل میں سے ایک تھی، جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کی قوم کے بعد زمین پر آباد کیا۔ قرآنِ کریم میں اس قوم کا کئی بار ذکر آتا ہے۔ یہ لوگ “احقاف” نامی علاقے میں رہتے تھے جو آج کے یمن اور عمان کے درمیان ریگستانی خطہ تھا۔ قومِ عاد کی زبان عربی کی قدیم ترین شکل تھی اور ان کا شہر “ایرم” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ شہر اپنی بلند و بالا عمارتوں اور شاندار تعمیرات کے لیے مشہور تھا۔ قومِ عاد کے لوگ غیر معمولی قد و قامت رکھتے تھے۔ ان کا جسم مضبوط، طاقتور اور انتہائی بلند تھا۔ روایت ہے کہ ان کے جسم انسانی تاریخ کے عام انسانوں سے کہیں زیادہ بڑے اور طاقتور تھے۔ یہ لوگ کھیتوں، باغات اور اونچی عمارتوں کے مالک تھے۔ ان کے پاس مال و دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ وہ زراعت، تجارت اور تعمیرات میں ماہر تھے اور اپنی محنت اور ہنر کے باعث عرب کے سب سے امیر قبیلوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتیں عطا کیں لیکن یہ لوگ غرور اور تکبر میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ان کی طاقت اور دولت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ لوگ بت پرستی کرنے لگے اور اللہ کے پیغام کو بھلا بیٹھے۔ اپنے بڑے بڑے محلات اور مضبوط قلعوں پر فخر کرتے اور کہتے کہ ہم سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں۔ قرآن میں ان کے اس تکبر کا ذکر یوں کیا گیا کہ وہ کہتے تھے: “کون ہم سے زیادہ زور آور ہے؟” اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے طور پر حضرت ہودؑ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت ہودؑ نے انہیں اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا اور شرک سے روکا۔ آپؑ نے فرمایا کہ یہ سب نعمتیں اللہ کی دی ہوئی ہیں، اس کے شکر گزار بنو اور بت پرستی چھوڑ دو۔ آپؑ نے انہیں بار بار سمجھایا کہ غرور اور ظلم چھوڑ دیں ورنہ عذاب آئے گا۔ قومِ عاد نے حضرت ہودؑ کی دعوت کو نہ صرف رد کیا بلکہ مذاق اڑایا۔ وہ کہتے تھے: “ہمارے پاس مال و دولت ہے، باغات ہیں، کون ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے؟” انہوں نے آپؑ کو جادوگر اور جھوٹا قرار دیا۔ حضرت ہودؑ نے انہیں خبردار کیا کہ اگر وہ اپنی روش نہ بدلیں تو اللہ کا قہر ان پر نازل ہوگا۔ لیکن قومِ عاد نے سنی ان سنی کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں انہیں ایک ہلکی تنبیہ دی۔ ان کی زمینوں میں بارش رک گئی اور قحط سالی شروع ہو گئی۔ کھیت سوکھ گئے، باغات اجڑ گئے۔ حضرت ہودؑ نے انہیں سمجھایا کہ توبہ کرو، اللہ سے معافی مانگو تاکہ بارشیں واپس آئیں۔ مگر وہ مزید ضد اور تکبر میں آ گئے۔ ایک دن قومِ عاد نے آسمان پر سیاہ بادل دیکھا۔ وہ خوش ہوئے کہ شاید بارش ہونے والی ہے۔ لیکن حضرت ہودؑ نے بتایا کہ یہ بادل رحمت نہیں بلکہ عذاب ہے۔ وہ لوگ ہنستے رہے اور آپؑ کا مذاق اڑاتے رہے۔ جب بادل قریب آیا تو ایک خوفناک اور زوردار آندھی چلنے لگی۔ یہ صرف عام ہوا نہ تھی بلکہ اللہ کا قہر تھی۔ قرآن کے مطابق یہ آندھی مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہی۔ اس طوفان نے ان کے عظیم الشان محلات، مضبوط قلعوں اور بلند درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ ان کے جسمانی طور پر مضبوط مرد و عورت بھی تنکوں کی طرح اڑ گئے۔ یہ آندھی اتنی شدید تھی کہ پوری قوم نیست و نابود ہوگئی۔ نہ ان کے باغات بچے، نہ گھر۔ ان کی بلند و بالا عمارتیں بھی مٹی کا ڈھیر بن گئیں۔ وہی لوگ جو اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے تھے، اللہ کے حکم سے مٹ گئے۔ حضرت ہودؑ اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والے لوگ اس عذاب سے محفوظ رہے۔ وہ پہلے ہی حضرت ہودؑ کی ہدایت پر ایک محفوظ جگہ منتقل ہو چکے تھے۔ یہ اللہ کی نشانی تھی کہ ایمان والوں کو ہمیشہ بچا لیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں قومِ عاد کا تذکرہ اس لیے کیا گیا تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ یہ قوم اپنی طاقت پر نازاں تھی لیکن اللہ کے حکم کے آگے کچھ بھی نہ کر سکی۔ یہ یاد دہانی ہے کہ کوئی قوم خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر وہ اللہ کو بھلا دے اور ظلم و غرور میں ڈوب جائے تو اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ قومِ عاد کی کہانی انسانیت کے لیے ایک ابدی سبق ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ طاقت، دولت اور ترقی کبھی بھی انسان کو ابدی کامیابی نہیں دے سکتیں۔ حقیقی کامیابی صرف اللہ کے احکامات پر چلنے اور شکر ادا کرنے میں ہے۔ جو قوم یہ سبق بھول جاتی ہے، تاریخ اس کے خاتمے کا اعلان کر دیتی ہے۔
“قومِ عاد کی عروج و زوال کی داستان: طاقت، غرور اور عبرت کا سبق”
September 25, 2025
0
Tags
