فلسطین کے حق میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حال ہی میں ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جسے عالمی سیاست کا اہم موڑ کہا جا رہا ہے۔ “نیو یارک ڈیکلیئریشن” کے نام سے مشہور اس قرارداد میں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، دو ریاستی حل اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے حق میں 142 ممالک نے ووٹ دیا، صرف 10 نے مخالفت کی اور 12 نے غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر یہ ایک کاغذی کارروائی لگ سکتی ہے، مگر اس کی سفارتی اور سیاسی اہمیت بے پناہ ہے۔ اس قرارداد کا سب سے نمایاں پہلو دو ریاستی حل کی کھلی حمایت ہے، یعنی ایک آزاد فلسطینی ریاست اور ایک اسرائیلی ریاست جو امن کے ساتھ ساتھ رہیں۔ ساتھ ہی غزہ میں جاری جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کی اپیل کی گئی تاکہ معصوم شہریوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں اور انسانی امداد باآسانی پہنچ سکے۔ اس میں فلسطینی اتھارٹی کے اندر اصلاحات اور حماس کے قبضے کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایک مستحکم اور جمہوری فلسطینی حکومت قائم ہو سکے۔ قرارداد میں اسرائیلی آباد کاری، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی قبضے کی مذمت کی گئی ہے اور مغوی افراد کی رہائی اور امن مذاکرات کے فوری آغاز پر زور دیا گیا ہے۔ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی، اس لیے اس کی قانونی حیثیت پابند نہیں بلکہ سفارش کی صورت رکھتی ہے۔ جنرل اسمبلی کی قراردادیں بین الاقوامی رائے عامہ کی نمائندگی کرتی ہیں لیکن کسی ملک پر زبردستی نافذ نہیں کی جا سکتیں۔ سلامتی کونسل کی قرارداد اگر بابِ ہفتم کے تحت منظور ہو تو اسے لازمی قرار دیا جا سکتا ہے، مگر اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود یہ عالمی سیاست میں فلسطین کے موقف کو زبردست اخلاقی اور سفارتی قوت فراہم کرتی ہے۔ اس کا عملی اثر کئی پہلو رکھتا ہے۔ سب سے پہلے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے اس قرارداد کی حمایت اسرائیل اور اس کے اتحادیوں، خاص طور پر امریکا، پر بڑا دباؤ ڈالتی ہے۔ عالمی برادری کا یہ پیغام واضح ہے کہ دو ریاستی حل کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں۔ فلسطینی قیادت کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ انہیں اب عالمی سطح پر اپنی ریاست کو تسلیم کروانے کا مزید جواز حاصل ہو گیا ہے۔ کئی ممالک مستقبل قریب میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیشِ نظر اس قرارداد کے بعد امدادی اداروں کو مزید فنڈز اور سہولتیں فراہم کیے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس سے عام شہریوں کی مشکلات کسی حد تک کم ہو سکتی ہیں۔ تاہم راستہ آسان نہیں۔ امریکا نے کھل کر مخالفت نہیں کی، لیکن اگر سلامتی کونسل میں کوئی بائنڈنگ قرارداد لانے کی کوشش ہوئی تو امریکی ویٹو کا امکان موجود ہے۔ اسرائیل زمینی حقائق کی بنیاد پر اپنی بستیوں کی توسیع جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی بین الاقوامی دباؤ کے باوجود فوری طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ کچھ عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ اپنے معاشی و سفارتی تعلقات قائم رکھنا چاہتی ہیں، اس لیے وہ زیادہ سخت دباؤ ڈالنے سے گریز کریں گی۔ فلسطینی داخلی سیاست میں حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان اختلافات بھی امن مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ عالمی ردِعمل میں یورپ کے بیشتر ممالک، اسلامی دنیا اور افریقہ نے اس قرارداد کا بھرپور خیرمقدم کیا۔ پاکستان نے نہ صرف ووٹ دیا بلکہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک علیحدہ قرارداد بھی منظور کروائی جس میں اسرائیلی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی۔ دوسری جانب اسرائیل نے اسے یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ امریکا نے محتاط رویہ اختیار کیا اور کہا کہ عملی مذاکرات ہی اصل راستہ ہیں۔ یہ قرارداد بظاہر قانونی طور پر نافذ نہیں ہو سکتی، لیکن یہ ایک طاقتور علامتی قدم ہے جو عالمی برادری کے اس مشترکہ عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے حقِ خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ سیاسی، سفارتی اور عوامی دباؤ میں اضافہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے مستقبل میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سلامتی کونسل اسی بنیاد پر کوئی بائنڈنگ قرارداد پیش کرے اور عالمی طاقتیں متحد رہیں تو یہ قدم عملی امن کی طرف ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
ووٹ کرنے والے ممالک جو مخالفت میں تھے
1. اسرائیل (Israel)
2. امریکہ (United States)
3. ارجنٹائن (Argentina)
4. ہنگری (Hungary)
5. مکرو نیژیا (Micronesia)
6. نارو (Nauru)
7. پالو (Palau)
8. پاپوآ نیو گنی (Papua New Guinea)
9. پیراگوئے (Paraguay)
10. ٹونگا (Tonga)
قرارداد سے غیر جانب دار
(Abstain) رہنے والے 12 ممالک
1. آسٹریلیا (Australia)
2. آسٹریا (Austria)
3. کینیڈا (Canada)
4. کروشیا (Croatia)
5. چیک ریپبلک (Czech Republic)
6. جرمنی (Germany)
7. اٹلی (Italy)
8. لیٹویا (Latvia)
9. لیتھوانیا (Lithuania)
10. نیدرلینڈز (Netherlands)
11. پولینڈ (Poland)
12. یوکرین (Ukraine)

