سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والا اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ حالیہ دنوں کی سب سے اہم جیو پولیٹیکل پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ سترہ ستمبر 2025 کو ریاض میں طے پایا جس پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی تعاون کو اس سطح تک لے جانا ہے جہاں کسی بھی بیرونی خطرے یا حملے کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یعنی اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا جاتا ہے تو اسے دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور وہ مشترکہ ردِعمل دینے کے پابند ہوں گے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی سمت متعین کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کے کئی پہلو نہایت فائدہ مند ہیں۔ سب سے پہلا اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک مضبوط عسکری پشت پناہی حاصل ہو گئی ہے۔ اگر پاکستان کو کسی بیرونی طاقت سے خطرہ لاحق ہو تو سعودی عرب اس کی کھلی حمایت اور عملی مدد کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ پاکستان کے لیے خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ اب پاکستان کے پیچھے سعودی عرب جیسا معاشی و فوجی طاقت رکھنے والا ملک کھڑا ہونے سے اس کی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ معاشی اعتبار سے بھی یہ معاہدہ پاکستان کے لیے بڑا فائدہ لا سکتا ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور معاشی بحران کے دوران کئی مرتبہ پاکستان کو مالی پیکج فراہم کر چکا ہے۔ اس دفاعی اتحاد کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سعودی سرمایہ کاری کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔ جب دو ملک دفاعی سطح پر قریبی تعلقات رکھتے ہیں تو اس کے اثرات تجارتی اور معاشی تعلقات پر بھی پڑتے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کے لیے توانائی کے شعبے، انفراسٹرکچر اور دیگر معاشی شعبوں میں مزید تعاون کے راستے کھل سکتے ہیں۔ فوجی تربیت اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پاکستان کو اہم فائدے حاصل ہوں گے۔ معاہدے کے مطابق دونوں ممالک مشترکہ عسکری مشقیں کریں گے، جدید اسلحے کے استعمال کی تربیت دیں گے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سعودی عرب کے پاس جدید دفاعی نظام اور مہنگے ہتھیار موجود ہیں۔ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے سے پاکستانی افواج کو نئے تجربات اور ٹیکنالوجی سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی دفاعی صنعت کو مزید بہتر بنا سکتا ہے اور اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس معاہدے کے خطے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے زیادہ تشویش بھارت کو ہے۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور اب پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کا کھلا دفاعی اتحاد بھارت کے لیے سفارتی اور عسکری دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ پریشان کن ہے کہ سعودی عرب، جس کے ساتھ بھارت کے بھی قریبی تجارتی تعلقات ہیں، پاکستان کے ساتھ اس قدر گہرا دفاعی معاہدہ کر رہا ہے۔ بھارت کو اپنی علاقائی حکمت عملی پر نئے سرے سے غور کرنا پڑے گا تاکہ اس نئے طاقت کے توازن کا مقابلہ کر سکے۔ ایران کے لیے بھی یہ پیش رفت ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے لیکن تاریخی طور پر دونوں ممالک میں مسابقت رہی ہے۔ ایران اس معاہدے کو احتیاط سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ یہ اتحاد اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے لیے بھی یہ اتحاد ایک نئی فکری الجھن پیدا کرتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان دونوں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر یہ دونوں ممالک کسی مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہیں تو اسرائیل کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک بھی اس معاہدے کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ وہ سعودی عرب کے قریبی اتحادی ہیں، مگر ایک نیا مضبوط بلاک بننے سے انہیں اپنی پالیسیوں میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ کچھ عرب ممالک ممکن ہے اس اتحاد میں شامل ہونے پر غور کریں تاکہ خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھ سکیں۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ مستقبل میں دیگر عرب ممالک کے لیے اس میں شمولیت کے دروازے کھلے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ اتحاد دو ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ ایک وسیع تر علاقائی دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کر لے۔ ایک اور پہلو جس پر لوگوں میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں وہ اسرائیل کے قریب کسی پاکستانی فوجی تعیناتی کا امکان ہے۔ ابھی تک کسی مستند ذریعے سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ پاکستان اپنی افواج کو اسرائیل کے قریب کسی ائیر بیس پر بھیجے گا۔ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے اور کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس حوالے سے جو افواہیں زیر گردش ہیں وہ محض قیاس آرائیاں ہیں اور ان کے حق میں کوئی معتبر شواہد موجود نہیں۔ مجموعی طور پر یہ معاہدہ پاکستان کو نہ صرف دفاعی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ اسے معاشی استحکام، فوجی ٹیکنالوجی میں ترقی اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ میں اضافے کا موقع دیتا ہے۔ یہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نیا رخ دے سکتا ہے، جس کے اثرات بھارت، ایران، اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اس کی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی ہے اور آئندہ برسوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں، بشرطیکہ دونوں ممالک اپنے وعدوں پر عمل کریں اور اس تعلق کو سیاسی اتار چڑھاؤ سے بالاتر رکھیں۔
سعودی عرب اور پاکستان کا تاریخی دفاعی اتحاد: وہ راز جو خطے کی طاقت کا نقشہ بدل سکتا ہے”
September 22, 2025
0
Tags
