اپریل 1889 کو آسٹریا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام ایڈولف ہٹلر رکھا گیا۔ یہ بچہ آگے چل کر دنیا کے لیے خوف اور تباہی کی علامت بننے والا تھا۔ بچپن میں ہٹلر ضدی اور خودسر تھا۔ اُس کے والد سخت مزاج سرکاری ملازم تھے اور چاہتے تھے کہ بیٹا بھی نوکری کرے، لیکن ہٹلر کے خواب کچھ اور تھے۔ وہ گھنٹوں تصویریں بناتا اور چاہتا تھا کہ ایک دن بڑا فنکار بنے۔ لیکن قسمت اُس کے خلاف تھی۔ جب اُس نے ویانا کے آرٹ اسکول میں داخلہ لینے کی کوشش کی تو اُسے رد کر دیا گیا۔ یہ ناکامی اُس کے دل پر گہرا زخم چھوڑ گئی۔ اُس کے خواب ٹوٹ گئے، لیکن ضد بڑھ گئی۔ وہ سوچنے لگا: “اگر دنیا مجھے آرٹسٹ نہیں مانتی، تو ایک دن وہ مجھے رہنما کے طور پر ماننے پر مجبور ہوگی۔” پہلی جنگِ عظیم اور بدلے کا جذبہ 1914 میں پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی تو ہٹلر نے فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ محاذ پر اُس نے بہادری دکھائی، کئی بار زخمی ہوا اور تمغے بھی پائے۔ لیکن جب 1918 میں جرمنی کو شکست ہوئی تو ہٹلر ٹوٹ گیا۔ معاہدۂ ورسائے کے تحت جرمنی پر بھاری پابندیاں لگیں اور عوام ذلت میں ڈوب گئے۔ ہٹلر نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور فیصلہ کیا کہ وہ ایک دن اس ذلت کا بدلہ لے گا۔ یہی جذبہ آگے چل کر اُس کی سیاست کی بنیاد بنا۔ سیاست میں انٹری اور نازی پارٹی کا عروج جنگ کے بعد ہٹلر ایک چھوٹی سی سیاسی جماعت کے قریب آیا، جو بعد میں نازی پارٹی کہلائی۔ وہاں پہلی بار اُس نے تقریر کی۔ اُس کی آواز گرجدار اور الفاظ زہریلے مگر پُراثر تھے۔ اُس نے کہا: “جرمنی کی تباہی کے ذمہ دار یہودی ہیں۔ ہمیں اٹھنا ہوگا اور اپنی عظمت واپس لینی ہوگی!” عوام اُس کے الفاظ میں کھو گئے۔ جلد ہی ہٹلر نازی پارٹی کا رہنما بن گیا۔ اُس نے جلسوں اور ریلیوں کے ذریعے عوام کو اپنے ساتھ جوڑا۔ جرمن پرچم پر سواستیکا کا نشان نازی پارٹی کی پہچان بن گیا۔ لاکھوں لوگ اُس کے جلسوں میں شریک ہوتے اور ایک ہی آواز میں نعرہ لگاتے: “ہیل ہٹلر!”۔ ہٹلر نے عوام کو روزگار، عزت اور طاقت کے خواب دکھائے اور وہ خواب ان کے دلوں کو چھو گئے۔ اقتدار اور سخت قوانین 1933 میں ہٹلر جرمنی کا چانسلر بن گیا۔ اقتدار ملتے ہی اُس نے ملک کو بدلنا شروع کیا۔ فیکٹریاں چلنے لگیں، بے روزگاروں کو نوکریاں ملیں، سڑکیں اور صنعتیں ترقی کرنے لگیں۔ عوام خوش تھے کہ جرمنی دوبارہ طاقتور ہو رہا ہے۔ لیکن ہٹلر کے اقدامات صرف ترقی تک محدود نہ تھے۔ اُس نے اپنی مخالفت کرنے والوں کو ختم کرنا شروع کیا۔ میڈیا پر قبضہ کر لیا، فوج کو اپنے حکم کے تابع کر دیا۔ اور سب سے بڑا ظلم اُس نے یہودیوں پر کیا۔ یہودیوں کو نوکریوں اور اسکولوں سے نکال دیا گیا۔ ان کے کاروبار تباہ کیے گئے اور اُنہیں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ نفرت کا طوفان جرمنی بھر میں پھیل گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہٹلر کا اگلا خواب دنیا کو فتح کرنا تھا۔ 1939 میں اُس نے پولینڈ پر حملہ کیا، جس کے ساتھ ہی دوسری جنگِ عظیم شروع ہو گئی۔ جرمن فوج تیزی سے آگے بڑھتی گئی اور ایک کے بعد ایک ملک اُس کے قدموں میں گرنے لگا۔ فرانس، بیلجیم، ہالینڈ سب جرمنی کے قبضے میں آ گئے۔ یورپ کا بیشتر حصہ ہٹلر کے کنٹرول میں تھا۔ لیکن برطانیہ اور پھر روس نے سخت مزاحمت کی۔ روس پر حملہ ہٹلر کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ جرمن فوج سردی، بھوک اور بیماریوں کا شکار ہو گئی اور پسپا ہونے لگی۔ اسی دوران امریکا بھی جنگ میں کود پڑا۔ اب ہٹلر کے مقابلے پر پوری دنیا کھڑی تھی۔ شکست اور زوال جرمنی کے شہر مسلسل بمباری کی زد میں آئے۔ عوام بھوک اور خوف میں مبتلا تھے۔ جرمن فوج ٹوٹ رہی تھی لیکن ہٹلر ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ وہ اپنے بنکر میں قید ہو کر بھی یہ کہتا رہا: “ہم آخر تک لڑیں گے!” مگر حقیقت یہ تھی کہ سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ ہٹلر کا انجام 30 اپریل 1945 کو، جب روسی فوج برلن کے قریب پہنچ چکی تھی، ہٹلر نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ وہ اپنی ساتھی ایوا براؤن کے ساتھ اپنے خفیہ بنکر میں گیا اور چند لمحوں بعد اُس کی زندگی ختم ہو گئی۔ کچھ دن بعد جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے اور دوسری جنگِ عظیم ختم ہو گئی۔ دنیا کروڑوں انسانوں کی موت اور تباہی کے زخم سہہ رہی تھی۔ ہٹلر کا خواب دنیا کو جیتنے کا تھا، لیکن اُس کی ضد اور نفرت نے سب کچھ برباد کر دیا۔ نتیجہ ہٹلر کی کہانی ایک سبق ہے کہ طاقت، ضد اور نفرت کے سہارے دنیا کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔ جو لیڈر اپنی قوم کو نفرت کے راستے پر لے جائے، اُس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ایک ناکام آرٹسٹ سے آمر بننے والا شخص تاریخ میں سب سے بڑے ظالموں میں شمار ہوا۔

