انقلاب ۔۔! چین کے سائنسدانوں نے ہڈیوں کو صرف 3 منٹ میں جوڑنے والا گیلو تیار کر لیا

Pak Urdu Tales
0

 چین کے سائنسدانوں


نے حال ہی میں ایک ایسا حیرت انگیز تجربہ کیا ہے جو ہڈیوں کے علاج کے روایتی طریقے کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ The "Bone-02" is a robot that has a large number of legs and a large number of legs. It has a large number of legs. صدف سمندر کے پانی میں بھی چٹانوں سے مضبوطی سے چمٹا رہتا ہے، اور یہی اصول سائنسدانوں نے ہڈیوں کے علاج میں استعمال کیا ہے۔


اس گلو کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ صرف دو سے تین منٹ میں ٹوٹی ہوئی ہڈی کو ایسے جوڑ دیتا ہے جیسے کبھی فریکچر ہوا ہی نہ ہو۔ عام طور پر ہڈی کے پیچیدہ فریکچر کو جوڑنے کے لیے دھاتی پلیٹیں، پیچ یا راڈز استعمال کیے جاتے ہیں، جو نہ صرف مہنگے ہوتے ہیں بلکہ ایک اور سرجری کی ضرورت بھی پیدا کرتے ہیں تاکہ ان امپلانٹس کو بعد میں جسم سے نکالا جا سکے۔ لیکن Bone-02 کی وجہ سے یہ ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

یہ گلو براہِ راست فریکچر کی جگہ پر انجیکٹ کیا جاتا ہے۔ انجیکشن کے بعد یہ مادہ ہڈی کے دونوں حصوں کو فوراً جوڑنا شروع کر دیتا ہے اور چند منٹوں میں ایک مضبوط قدرتی بانڈ بنا لیتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ گلو خون سے بھرے حصوں میں بھی مؤثر رہتا ہے، جہاں عام دوائیں یا دیگر چپکنے والے مادے ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہڈی کے اندر یہ مادہ مکمل طور پر بایوڈیگریڈیبل ہے، یعنی جیسے ہی ہڈی مکمل طور پر جڑتی ہے، یہ آہستہ آہستہ تحلیل ہو کر جسم کا حصہ بن جاتا ہے اور کسی دوسری سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس طرح مریض انفیکشن کے خطرات سے بھی بچ جاتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ اور ماہر آرتھوپیڈک سرجن لن ژیان فینگ کے مطابق Bone-02 کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ چار سو پاؤنڈ سے زیادہ وزن برداشت کر سکتا ہے۔ اس کی کمپریسیو اسٹرینتھ 10 میگا پاسکل (MPa) تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو اسے انتہائی مضبوط اور پائیدار بناتی ہے۔ یہ خصوصیات اسے نہ صرف عام فریکچر بلکہ انتہائی پیچیدہ ہڈیوں کے زخموں میں بھی کارآمد بناتی ہیں۔

چینی سائنسدانوں نے یہ گلو صدف کے قدرتی چپکنے والے پروٹینز سے متاثر ہو کر تیار کیا ہے۔ سمندر کی تہہ میں موجود صدف تیز لہروں اور نمکین پانی کے باوجود چٹانوں سے مضبوطی سے چمٹا رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس مظبوطی کے پیچھے چھپے بایو کیمیکل میکانزم کا مطالعہ کیا اور اسی اصول کو ہڈیوں کے علاج کے لیے اپنایا۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ گلو پانی یا خون کے زیادہ بہاؤ والے حصوں میں بھی اپنی چپکنے کی طاقت کھوئے بغیر مؤثر رہتا ہے، جو عام دواؤں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

Bone-02 کو مستقبل کی آرتھوپیڈک سرجری میں گیم چینجر سمجھا جا رہا ہے۔ موجودہ دور میں جب کسی کی ہڈی ٹوٹتی ہے تو ڈاکٹرز کو دھات کے پیچ یا پلیٹس لگانی پڑتی ہیں، جس کے لیے نہ صرف بڑی سرجری کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ہڈی جڑنے کے بعد ان امپلانٹس کو نکالنے کے لیے دوبارہ آپریشن کرنا پڑتا ہے۔ اس پورے عمل میں مہینوں لگ جاتے ہیں اور مریض کو شدید تکلیف اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، Bone-02 کے استعمال سے یہ تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اس وقت یہ گلو کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے میں ہے۔ سائنسدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹرائلز کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف فریکچر کے علاج بلکہ دیگر بون ری کنسٹرکشن سرجریز میں بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے یہ ایجاد کسی نعمت سے کم نہیں جو ذیابیطس، خون کے مسائل یا کمزور ہڈیوں کی وجہ سے روایتی علاج سے تیزی سے صحت یاب نہیں ہو پاتے۔

چینی محققین کے مطابق اس گلو کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ جسم میں کسی الرجی یا ردعمل کا سبب نہیں بنتا۔ عام طور پر دھاتی امپلانٹس کے ساتھ جسم میں سوزش یا انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لیکن Bone-02 کی بایوڈیگریڈیبل خصوصیات اس خطرے کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ جسم کے قدرتی عمل کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بغیر کسی نقصان کے تحلیل ہو جاتا ہے۔

دنیا بھر کے آرتھوپیڈک ماہرین اور محققین نے اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ گلو کمرشل سطح پر دستیاب ہو گیا تو نہ صرف علاج کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ مریضوں کے لیے صحت یابی کا عمل بھی انتہائی تیز ہو جائے گا۔ ہسپتالوں میں بیڈز پر مریضوں کے قیام کا دورانیہ کم ہوگا اور سرجری کے پیچیدہ مراحل کی ضرورت بھی کم سے کم رہ جائے گی۔

یہ ایجاد مستقبل میں کھیلوں کے کھلاڑیوں، حادثات کے شکار مریضوں اور بزرگ افراد کے لیے بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ کھیلوں کے دوران فریکچر یا شدید چوٹ لگنے کے بعد فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے، اور Bone-02 اس صورتحال میں بہترین حل فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح عمر رسیدہ افراد کی ہڈیاں عام طور پر کمزور ہوتی ہیں اور ان کے زخم دیر سے بھرتے ہیں، لیکن یہ گلو ان کے لیے بھی ایک محفوظ اور تیز رفتار علاج مہیا کرے گا۔

اگرچہ ابھی یہ تجرباتی مرحلے میں ہے، لیکن چین کی اس ایجاد نے دنیا بھر میں طبّی ماہرین کو امید دی ہے کہ مستقبل قریب میں ہڈیوں کے علاج کا منظرنامہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔ وہ دن دور نہیں جب کسی کی ہڈی ٹوٹنے پر مہینوں کے بجائے چند دنوں میں مکمل صحت یابی ممکن ہوگی۔

یہ ترقی نہ صرف میڈیکل سائنس کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ مریضوں کی زندگیوں کو آسان بنانے میں بھی ایک شاندار قدم ہے۔ اگر Bone-02 کامیابی کے ساتھ مارکیٹ تک پہنچتا ہے تو یہ آرتھوپیڈک سرجری کے میدان میں ایک ایسا انقلاب لائے گا جس کا انتظار برسوں سے کیا جا رہا تھا۔
Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)