سوفی محمد برکت علی کی پیدائش 27 اپریل 1911 کو برہمی نامی گاؤں میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو دین داری اور روحانیت کے لیے پہچانا جاتا تھا۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا اور اسی وجہ سے بچپن ہی سے ان کی توجہ قرآن اور عبادت کی طرف رہی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی، پھر ہلوارا اور رائے کوٹ کے اسکولوں میں گئے۔ قرآن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عام نصابی تعلیم بھی حاصل کی۔ بچپن کے دوستوں اور قریبی لوگوں کے مطابق وہ نرم مزاج، خاموش طبع اور ذکر الٰہی میں مصروف رہنے والے تھے۔ جوانی کے زمانے میں انہوں نے برٹش ہندوستان کی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ صرف انیس برس کی عمر میں کمیشنڈ آفیسر کے طور پر منتخب ہونا اس دور میں بڑی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔ فوج میں رہتے ہوئے بھی ان کا دل عبادت اور صوفیانہ طریقِ زندگی کی طرف مائل رہا۔ ڈیوٹی کے دوران فارغ اوقات میں ذکر، نماز اور مراقبے کو ترک نہیں کیا۔ ان کے ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ دنیاوی مرتبے اور عہدے کو اللہ کی رضا کے مقابلے میں کبھی اہم نہیں سمجھتے تھے۔ کچھ عرصہ فوجی خدمات انجام دینے کے بعد وہ مستقل طور پر روحانی راستے پر چل پڑے۔ دنیاوی ملازمت اور آسائشیں چھوڑ کر انہوں نے اپنی زندگی خدمتِ خلق اور ذکر الٰہی کے لیے وقف کر دی۔ فیصل آباد کے قریب سمندری روڈ پر انہوں نے ایک مرکز قائم کیا جو بعد میں “دارالاحسان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ جگہ نہ صرف روحانی تربیت کا مرکز بنی بلکہ فلاحی کاموں کا بھی محور بن گئی۔ یہاں مستحق افراد کے لیے آنکھوں کے مفت آپریشن کے کیمپ لگائے جاتے، مریضوں کو مفت یا سستی دوا فراہم کی جاتی، غریبوں میں کپڑے اور کمبل تقسیم کیے جاتے اور ہر وقت مسافروں اور محتاجوں کے لیے کھانے کا انتظام رہتا۔ دارالاحسان میں روزانہ ذکر اور درس کی محفلیں لگتی تھیں۔ لوگ دور دور سے آ کر ان سے روحانی رہنمائی لیتے۔ ان کا پیغام سادہ تھا: اللہ کی یاد میں زندگی گزارو، محبت اور عاجزی کو اپناؤ، انسانیت کی خدمت کرو اور رسول اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرو۔ وہ کسی فرقہ واریت یا سیاسی سرگرمی میں شریک نہیں ہوتے تھے اور سب کو یکساں عزت دیتے تھے۔ ان کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی صحبت میں ایک عجیب سکون اور دل کو قرار نصیب ہوتا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھی وہ روزانہ ذکر اور درس کا معمول جاری رکھتے۔ بڑھتی عمر اور کمزور صحت کے باوجود وہ فلاحی منصوبوں کی نگرانی کرتے اور آنے والوں سے نرمی اور شفقت کے ساتھ ملتے۔ 26 جنوری 1997 کو ان کا انتقال ہوا۔ ان کا مزار دارالاحسان فیصل آباد میں ہے جہاں آج بھی دنیا بھر سے عقیدت مند آ کر فاتحہ خوانی کرتے اور ان کی تعلیمات کو یاد کرتے ہیں۔ ان کے شاگرد اور پیروکار ان کے قائم کردہ مرکز کو اسی طرح چلا رہے ہیں، جہاں روحانی محافل اور خدمتِ خلق کے منصوبے جاری ہیں۔ سوفی برکت علی کی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ دنیاوی مرتبہ چھوڑ کر بھی حقیقی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی تعلیمات نے بے شمار لوگوں کے دلوں کو بدل دیا اور آج بھی ان کا نام ذکر الٰہی، عاجزی، محبت اور خدمت کے استعارے کے طور پر زندہ ہے۔
.jpeg)