یہ وہ خوفناک کہانی ہے جو صدیوں بعد بھی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دیتی ہے۔
آج میں آپ کو ایسے خوف سے ملوانے جا رہا ہوں جو انسان کے اپنے اندر چھپا ہوتا ہے—وہ خوف جو بھوک اور سردی کے ہاتھوں سب سے مہذب شخص کو بھی درندگی پر مجبور کر دیتا ہے۔
اپریل 1846ء میں تقریباً 87 افراد پر مشتمل ایک قافلہ مڈ ویسٹ سے کیلی فورنیا کے لیے روانہ ہوا۔ خواب یہ تھا کہ وہاں روزگار ملے گا، زمینیں بسیں گی اور زندگی خوشحال ہوگی۔ راستہ طویل تھا مگر امیدیں بلند تھیں۔
راستے میں ایک وکیل نے ایک "شارٹ کٹ" کی تجویز دی: "اگر ہم نیواڈا کے پہاڑوں سے یہ کٹ لگائیں تو سات سے دس دن پہلے پہنچ جائیں گے۔"
قافلے کے سردار نے یہ رائے پسند کی، اور بوڑھوں اور بچوں سمیت سبھی اس نئی راہ پر چل پڑے۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ یہ شارٹ کٹ ایک دائمی عذاب بن جائے گا۔
جب وہ اپنی منزل سے صرف 240 کلو میٹر دور تھے، نومبر کی برفباری شروع ہو چکی تھی۔
نوک دار پتھروں، تیز ہواؤں اور منفی درجہ حرارت نے قافلے کو ڈانر جھیل کے قریب روک دیا۔
بعد کے ماہرین کے مطابق یہ برفباری سو سالہ ریکارڈ توڑ چکی تھی۔ جنگل برف سے ڈھک گئے، خوراک کے ذخیرے ختم ہونے لگے، گھوڑوں کے سم برف میں دھنس گئے۔
دو مہینے تک یہ لوگ پہاڑوں کے بیچ اسی برف کے قید خانے میں پھنسے رہے۔
پہلے جانور ذبح کیے گئے تاکہ گوشت سے جسم گرم رہ سکے۔
جب وہ ختم ہوئے تو ان کے چمڑے کو ابال کر کھایا گیا۔ مگر بھوک کا عذاب بڑھتا گیا۔
بچے کانپتے، بوڑھے دم توڑتے اور جسم کا ہر سانس برف میں جم رہا تھا۔
پھر وہ لمحہ آیا جب کسی نے آہستہ سے کہا: "اگر ہم یونہی بھوکے رہے تو سب مر جائیں گے… کیوں نہ جو مر چکے ہیں ان کا گوشت کھا لیں؟"
ابتدا میں سب نے انکار کیا، مگر بھوک کے سامنے ارادے ٹوٹنے لگے۔ اور یوں انسان نے انسان کو کھانا شروع کیا۔
خیموں کے پیچھے کٹے جسموں کا گوشت پکنے لگا، فضا میں انسانی گوشت کی بدبو بھر گئی۔
فروری 1847ء میں جب ریسکیو ٹیم پہنچی تو منظر ناقابلِ بیان تھا۔
برف میں آدھی کھائی لاشیں، خالی آنکھوں والے زندہ لوگ جن کی ہڈیاں ابھر چکی تھیں۔
87 میں سے صرف 48 زندہ بچے۔
کچھ اطلاعات کے مطابق کچھ نے زندہ انسانوں کو بھی مار کر کھایا تاکہ خود بچ سکیں۔
In the film "Guilty Survival," the main character is portrayed as a woman.
اگر آپ اُس جمی ہوئی وادی میں پھنس جاتے تو کیا کرتے؟
کیا بھوک سے مر جانا پسند کرتے یا اپنی جان بچانے کے لیے اپنی ہی ساتھیوں کا گوشت کھاتے؟
یہی وہ سوال ہے جو ڈانر پارٹی کی یہ کہانی ہر انسان کے دل پر چھوڑ جاتی ہے: جب زندگی اور موت آمنے سامنے کھڑی ہوں تو انسان کہاں تک جا سکتا ہے؟
