شہزادے کی پراسرار بیماری اور بو علی سینا کا علاج

Pak Urdu Tales
0


 بو علی سینا کی طبی مہارت کے بے شمار قصے صدیوں سے سنائے جا رہے ہیں۔ ایک واقعہ خاص طور پر مشہور ہے جو ان کی ذہانت اور انسان دوستی کی زندہ مثال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ کا بیٹا اچانک بیمار ہو گیا۔ بڑے بڑے حکیم اور طبیب آئے لیکن شہزادے کی بیماری کا پتہ نہ چل سکا۔ نہ بخار تھا نہ کوئی زخم، مگر شہزادہ دن بہ دن کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ بادشاہ نے ہر علاج آزمایا مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ آخرکار بادشاہ نے بو علی سینا کو بلایا۔ انہوں نے شہزادے کا نہایت غور سے معائنہ کیا، نبض دیکھی، آنکھوں کی حرکت اور دل کی دھڑکن کو بھی باریکی سے محسوس کیا۔ یہ صرف جسمانی معائنہ نہیں تھا بلکہ ایک نفسیاتی مطالعہ بھی تھا۔ سوال و جواب کے دوران بو علی سینا نے محسوس کیا کہ جب کسی خاص علاقے یا گاؤں کا ذکر آتا ہے تو شہزادے کی نبض تیز ہو جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ بات چلاتے ہوئے انہوں نے اس گاؤں کی ایک لڑکی کا ذکر کیا تو شہزادے کے چہرے کی سرخی اور دھڑکن سب کچھ واضح کر گئے۔ بو علی سینا نے فوراً نتیجہ اخذ کیا کہ شہزادہ دراصل دل کے روگ یعنی محبت کی بیماری میں مبتلا ہے۔ انہوں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ شہزادے کی شادی اس لڑکی سے کر دی جائے۔ جب یہ رشتہ طے ہوا تو شہزادہ تندرست ہونے لگا اور تھوڑے ہی دنوں میں مکمل صحت یاب ہو گیا۔ یہ قصہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات اصل علاج دواؤں میں نہیں بلکہ دل اور جذبات کو سمجھنے میں ہوتا ہے۔ بو علی سینا کی یہ بصیرت آج بھی علمِ طب اور انسانیت کے لیے رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)