نتور لال (اصل نام متھلیش ناتھ) بھارت کے مشہور ترین نوسربازوں میں سے ایک تھا، جس نے اپنی چالاکی اور فراڈ کے انوکھے طریقوں کی وجہ سے شہرت پائی۔ اس کی زندگی کی تفصیل کچھ یوں بیان کی جاتی ہے: نتور لال بہار کے ضلع سیوان میں 1912 کے قریب پیدا ہوا۔ وہ اصل میں پیشے کے لحاظ سے وکیل تھا لیکن بعد میں جعل سازی اور فراڈ کی دنیا میں داخل ہوا۔ اس نے کئی بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیے، جن میں سب سے مشہور کارنامہ تاج محل، لال قلعہ، راشٹرپتی بھون اور حتیٰ کہ پارلیمنٹ ہاؤس جیسے تاریخی اور سرکاری عمارتوں کو “بیچنے” کے جعلی سودے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ان عمارتوں کو امیروں اور سرمایہ کاروں کو جعلی دستاویزات کے ذریعے فروخت کیا اور کروڑوں روپے کمائے۔ نتور لال اپنی ہوشیاری سے نہ صرف جعل سازی میں ماہر تھا بلکہ بارہا پولیس کو دھوکہ دے کر جیل سے فرار بھی ہوتا رہا۔ اس پر درجنوں مقدمات درج ہوئے اور مختلف ریاستوں کی پولیس اسے برسوں تک پکڑنے میں ناکام رہی۔ نتور لال کا ایک اور مشہور پہلو اس کی فراخ دلی تھی۔ وہ فراڈ سے حاصل شدہ پیسے کا بڑا حصہ غریبوں میں بانٹ دیتا تھا، اسی لیے کچھ لوگ اسے “بھارتی رابن ہڈ” بھی کہتے ہیں۔ اس کی آخری زندگی بھی پراسرار ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق 1996 میں وہ تقریباً 84 برس کی عمر میں مر گیا، لیکن اس کی موت کے سرکاری ثبوت کبھی نہیں ملے۔ اس کے بھائی نے ایک عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ مر چکا ہے، مگر بہت سے لوگ آج بھی سمجھتے ہیں کہ شاید وہ زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔ یہ کہانی بھارت میں لوک داستان کی طرح سنائی جاتی ہے اور نتور لال کو آج بھی ایک دلچسپ اور پراسرار شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
نتور لال تاریخ کا سب سے بڑا فراڈیا جس نے تاج محل اور پارلیمینٹ ہاؤس کو بھی بیچ دیا تھا
September 14, 2025
0
Tags
