حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر اٹھائیس مخلوقات آباد تھیں — سب سے حسین مخلوق کون؟

Pak Urdu Tales
0



  

کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے زمین پر اٹھائیس اقسام کی مخلوقات آباد تھیں؟ یہ وہ زمانے تھے جب انسان کا نام و نشان تک موجود نہ تھا، مگر زمین پر مختلف اور عجیب الخلقت مخلوقات بستیاں آباد کیے ہوئے تھیں۔ بعض تو ہزاروں سال تک زندہ رہتی تھیں، بعض کے جسم اور خدوخال ایسے حیران کن تھے کہ عقل دنگ رہ جائے۔

جنات کے بارے میں تو سب جانتے ہیں کہ وہ حضرت آدمؑ سے پہلے زمین پر رہتے تھے۔ لیکن جب ان میں سرکشی اور فساد بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا جنہوں نے جنات کو قتل کیا اور باقی کو زمین سے نکال کر جزیروں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ مگر جنات سے پہلے بھی کئی اقوام یہاں آباد تھیں — بِن، خِن اور مِن ان میں نمایاں نام ہیں۔

مشہور مفسر علامہ ابن کثیرؒ اپنی مشہور تصنیف البدایہ والنہایہ میں فرماتے ہیں کہ بِن و خِن زمین پر رہتے تھے، جب انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے جنات کو بھیجا جنہوں نے انہیں زمین سے نکال باہر کیا۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ مکمل طور پر فنا ہوگئے ہوں — ممکن ہے وہ کسی اور سیارے پر منتقل کر دیے گئے ہوں۔ شاید آج جسے ہم خلائی مخلوق (Aliens) کہتے ہیں، وہ دراصل یہی اقوام ہوں!

علامہ مسعودیؒ کے مطابق زمین پر انسان سے پہلے 28 مختلف مخلوقات آباد رہ چکی ہیں، اور علامہ شہاب الدین الاشبیہیؒ نے بھی المستطرف میں یہی بات لکھی ہے۔

✨ ان مخلوقات کی اقسام نہایت حیرت انگیز تھیں:

  • کچھ مخلوقات کے پروں سے ایسی آواز نکلتی تھی جیسے گھنٹیاں بج رہی ہوں۔
  • کچھ کے دو جسم مگر ایک ہی سر ہوتا، ایک حصہ شیر جیسا اور دوسرا پرندے جیسا۔
  • کچھ کے دو سر ہوتے — ایک آگے اور دوسرا پیچھے۔
  • کچھ آدھے انسان جیسے مگر کئی ٹانگوں والے۔
  • کچھ کے چہرے انسان جیسے مگر پیٹھ کچھوے جیسی، اور سروں پر سینگ ہوتے۔
  • کچھ کے جسم پر سفید بال اور دم گائے کی مانند۔
  • کچھ کے ناخن خنجروں کی طرح تیز اور کان بہت لمبے ہوتے۔

علامہ مسعودیؒ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ آدمؑ سے پہلے 120 اقسام کی مخلوقات آباد تھیں، مگر تحقیق کے مطابق یہ 28 ہی اقسام تھیں جو آپس کی شادیوں اور امتزاج سے مزید صورتیں اختیار کر گئیں۔

اور جب یہ تمام مخلوقات ختم ہو گئیں تو آخر کار اللہ تعالیٰ نے سب سے حسین مخلوق — انسان — کو پیدا فرمایا۔

“لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ”
بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔

اور حدیث پاک میں آتا ہے: “إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ” اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی پسندیدہ ترین صورت پر پیدا فرمایا۔

سائنس دان آج بھی زمین کے مختلف حصوں میں ان مخلوقات کے نشانات دریافت کر رہے ہیں۔ بعض ہڈیاں اور ڈھانچے جو انہیں ڈائنوسار یا دیگر عجیب جانداروں سے منسوب لگتے ہیں، ممکن ہے وہ انہی قدیم مخلوقات کی باقیات ہوں۔

الجزائر کے پہاڑوں میں پائی جانے والی غاروں کی دیواروں پر بنے نقوش انہی مخلوقات کی یادگار بتائے جاتے ہیں — بِن، خِن، اور مِن — جنہوں نے شاید اپنی داستان پتھروں پر نقش کر دی تھی۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ یأجوج و مأجوج انہی قدیم مخلوقات میں سے ہیں جنہیں حضرت ذوالقرنین علیہ السلام نے دیوار کے پیچھے قید کیا۔ اور کچھ روایات میں دو عظیم شہروں کا ذکر آتا ہے — ایک مشرق میں اور دوسرا مغرب میں — جہاں آج بھی مخلوق آباد ہے، مگر انسان کی نظروں سے اوجھل۔

یہ تمام واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان سے پہلے بھی زمین زندگی سے خالی نہ تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب مخلوقات میں سب سے حسین و مکرم بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آدمؑ کی تخلیق پر فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا — کیونکہ اب زمین پر وہ مخلوق آنے والی تھی جو عقل، شعور اور روحانی شرافت کا حسین امتزاج ہے۔

"انسان سب مخلوقات میں سب سے حسین ہے، کیونکہ اسے عقل، علم اور روحانی شعور عطا کیا گیا — یہی وہ نعمتیں ہیں جو اسے خالقِ کائنات کے قریب کرتی ہیں۔"

✍️ مصنف کا نوٹ:

یہ بلاگ تحقیق، تفکر اور مختلف اسلامی روایات پر مبنی ایک علمی تحریر ہے جس کا مقصد صرف علم میں اضافہ اور قارئین کو غور و فکر کی دعوت دینا ہے۔ قدیم مخلوقات، ان کے آثار اور انسان کی تخلیق کے مراحل ایسے موضوعات ہیں جو ہمیں خالقِ کائنات کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔ ان تمام حوالوں کو قطعی حقیقت نہیں بلکہ ایک تاریخی و روایتی زاویۂ نظر کے طور پر سمجھا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مخلوق کی معرفت کے ذریعے اپنی پہچان حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
— از قلم: Malik Moon 🌙

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)