محبت کا انتقام "جب محبت قتل بن گئی

Pak Urdu Tales
0

 بارش کی رات تھی۔ ممبئی کی سڑکوں پر اندھیرا چھایا ہوا تھا، گلیوں میں پانی جمع تھا اور آسمان سے ہلکی ہلکی بوندیں برس رہی تھیں۔ پولیس کنٹرول روم کی فون کی گھنٹی زور سے بجی

“سر، لوکھن والا کے علاقے میں ایک بلڈنگ کی چھت سے ایک لڑکی کی لاش ملی ہے!”

انسپکٹر روی کمار نے فوراً اپنی ٹیم کو بلایا اور جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوگئے

بلڈنگ پرانی تھی، پانچ منزلہ۔ چھت پر ایک جوان لڑکی کی لاش پڑی تھی۔ چہرے پر زخموں کے نشان، کپڑوں پر خون، اور ہاتھوں پر خراشیں۔ ایک نظر دیکھتے ہی محسوس ہوا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔

روی نے فورنزک ٹیم کو بلایا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ 

لاش کے قریب ایک چھوٹا پرس پڑا تھا جس میں شناختی کارڈ ملا — نیہا سنہا، عمر 26 سال، پیشہ گرافک ڈیزائنر۔ وہ اسی علاقے میں رہتی تھی۔

نیچے بلڈنگ کا چوکیدار رامیش کھڑا تھا، جو لرزتی آواز میں بولا:

“صاحب، رات کو میڈم ایک لڑکے کے ساتھ چھت پر گئی تھیں... اس کے بعد میں نے کچھ نہیں دیکھا۔”

“کون سا لڑکا؟” روی نے تیز لہجے میں پوچھا۔

رامیش نے جواب دیا، “سر، لگتا تھا جیسے ان کا پرانا دوست ہو۔ سفید رنگت، نیلی شرٹ پہنے تھا... شاید نام ارجن تھا۔”

اگلی صبح فورنزک رپورٹ آئی — نیہا کی موت گرنے سے نہیں ہوئی تھی۔ اس کے گلے پر گلا گھونٹنے کے نشان تھے۔

یعنی پہلے گلا دبایا گیا اور پھر لاش کو چھت سے پھینک دیا گیا تاکہ معاملہ خودکشی لگے۔

اب کیس سرکاری طور پر قتل قرار دے دیا گیا۔

انسپکٹر روی نے نیہا کے موبائل کی کال لسٹ چیک کروائی۔ آخری کال رات 10:47 پر ایک نامعلوم نمبر پر کی گئی تھی۔

جب وہ نمبر ٹریس کیا گیا تو وہ ارجن ملہوترا کا نکلا — ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا اکاؤنٹ مینجر۔

پولیس نے فوراً اسے حراست میں لے لیا۔

تفتیش کے دوران ارجن نے پہلے سب کچھ جھٹلا دیا۔

“سر، میں تو صرف بات کرنے گیا تھا۔ نیہا میری پرانی دوست تھی، ہم نے کافی پی تھی، بس۔”

روی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،

“کافی پینے کے بعد تم نے اس کا گلا گھونٹ دیا؟”

ارجن کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

“نہیں سر! میں جب گیا، وہ زندہ تھی۔”

فورنزک افسر نے رپورٹ پیش کی۔

“سر، نیہا کے کپڑوں پر ارجن کے فنگر پرنٹس ملے ہیں، اور اس کے ناخنوں میں اس کی جلد کے ٹکڑے بھی!”

ثبوت مضبوط تھے، مگر اب سوال یہ تھا — قتل کیوں ہوا؟

تحقیقات سے پتہ چلا کہ ارجن اور نیہا ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ دونوں کے درمیان کچھ عرصہ تعلق رہا، مگر نیہا نے رشتہ توڑ دیا۔

اس کے بعد نیہا نے ارجن کے خلاف ہراسانی کی شکایت بھی کی تھی، مگر ارجن نے انکار کیا اور معاملہ دب گیا۔

مگر شاید اس کے دل میں بدلے کی آگ جلتی رہی۔

پولیس نے ارجن کے گھر کی تلاشی لی۔ وہاں ایک ڈائری ملی جس میں لکھا تھا:

"اس نے سب کے سامنے مجھے ذلیل کیا۔ میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔ جب تک وہ زندہ ہے، میرا سکون مر چکا ہے۔"

یہ لکھائی ارجن کی ہی تھی۔

ثبوت، مقصد اور اقرار — سب پولیس کے پاس تھے۔

مگر عدالت میں ارجن نے کہا، “پولیس نے مار پیٹ کر مجھ سے اقرار کروایا!”

اس کے وکیل نے کہا کہ فورنزک ثبوت جھوٹے ہیں۔

عدالت نے دوبارہ DNA ٹیسٹ کا حکم دیا۔

نتیجہ وہی نکلا — نیہا کے ناخنوں کے اندر ارجن کا DNA موجود تھا۔

ارجن نے ایک نیا جھوٹ بولا:

“اس رات نیہا نے مجھے خود بلایا تھا۔ ہم نے صلح کرلی تھی۔ اس نے خود چھلانگ لگائی۔ میں اسے بچانے گیا تھا!”

انسپکٹر روی نے اس کے فون کے ڈیٹا کا بیک اپ نکلوایا۔

اس رات نیہا نے ارجن کو میسج کیا تھا:

"مجھے دوبارہ تنگ کیا تو پولیس کے پاس جاؤں گی!"

یہ میسج رات 10:30 پر بھیجا گیا تھا، اور 10:47 پر نیہا مر چکی تھی۔

عدالت نے سب ثبوت دیکھ کر فیصلہ دیا —

ارجن ملہوترا عمر قید کی سزا پائے گا۔

جج نے کہا،

“ایک عورت کی عزت کے ساتھ کھیلنے والا، اس کی جان لینے والا، انسان کہلانے کے لائق نہیں۔ قانون ایسے درندوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔”


کیس بند ہوگیا، مگر انسپکٹر روی کے دل میں ایک سوچ رہ گئی —

“کتنے ارجن اس دنیا میں چھپے ہیں، جو انا اور ضد کے نام پر زندگیاں برباد کر دیتے ہیں؟”


Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)