شیش محل کو شاہجہان نے 1631ء سے 1632ء کے درمیان بنوایا۔ یہ محل خاص طور پر ملکہ اور شاہی خواتین کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ وہ آرام اور تفریح کر سکیں۔ محل کی دیواریں اور چھت چھوٹے چھوٹے رنگین آئینوں سے مزین ہیں۔ جب ان پر روشنی پڑتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے ہزاروں جگنو ایک ساتھ جل اٹھے ہوں۔ --- 🌙 رات کا جادو کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں جب شیش محل کے اندر صرف ایک دیا جلایا جاتا تو پورا کمرہ جگمگا اٹھتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے آسمان کے سارے ستارے اتر کر کمرے میں آ گئے ہوں۔ اسی لیے شیش محل کو کبھی کبھی "ستاروں کا گھر" بھی کہا جاتا تھا۔ --- 💎 قیمتی خزانہ محل میں استعمال ہونے والا آئینہ ایران اور ترکی سے منگوایا گیا تھا۔ اس کے ڈیزائن میں پھول، بیل بوٹے، اور پرندوں کی شکلیں بنائی گئی ہیں۔ کچھ مورخین کہتے ہیں کہ یہاں ایک چھپا ہوا خزانہ بھی موجود تھا، جو شاید انگریز دور میں نکال لیا گیا۔ --- 🎭 دلچسپ قصہ سُننے میں آیا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ (سکھ دور میں) نے شیش محل کے کچھ قیمتی ہیرے جواہرات اپنے کالا چشمہ (آنکھوں کے موتیے کے علاج کے لیے) میں لگوا دیے تھے۔
