لاہور کا قلعہ اصل میں اکبر بادشاہ (1584ء کے قریب) نے بنوایا۔ اس سے پہلے یہاں راوی دریا کے کنارے ایک چھوٹا قلعہ موجود تھا، لیکن اکبر نے اس کو گروا کر ایک نیا، بڑا اور مضبوط قلعہ تعمیر کروایا۔ قلعے کی دیواریں سرخ پتھر اور اینٹوں سے بنائی گئیں، اس لیے اس کو "شاہی قلعہ" یا "لاہور قلعہ" کہا جاتا ہے۔ --- 🌸 مغل دور میں شان و شوکت جہانگیر اور شاہجہان کے دور میں اس قلعے کو مزید سجایا گیا۔ شاہجہان نے اندر شیش محل اور نگینہ مسجد بنوائی، جن کی خوبصورتی آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔ یہ قلعہ صرف جنگی مقصد کے لیے نہیں بلکہ بادشاہوں کے رہنے اور دربار لگانے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ --- ⚔️ حملے اور تباہی سکھ دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس پر قبضہ کیا۔ اس وقت قلعے کے کئی حصے نقصان کا شکار ہوئے۔ انگریز دور میں قلعے کے بڑے حصے کو فوجی چھاؤنی بنا دیا گیا۔ اس دوران قلعے کی اصل خوبصورتی کو کافی نقصان پہنچا۔ --- 🌟 آج کا شاہی قلعہ آج یہ قلعہ لاہور کی پہچان ہے اور یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ میں شامل ہے۔ سیاح یہاں آکر شیش محل، عالمگیری دروازہ، دیوانِ عام، دیوانِ خاص، اور سموچی بُرج دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ --- یہ قلعہ صرف اینٹ اور پتھر کی دیواریں نہیں، بلکہ مغل بادشاہوں کی شان، لاہور کی تاریخ، اور برصغیر کے عروج و زوال کی زندہ نشانی ہے۔
.jpeg)