بادشاہی مسجد کی تاریخ

Pak Urdu Tales
0


 بادشاہی مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں 1671ء میں شروع ہوئی اور 1673ء میں مکمل ہوئی۔ اس مسجد کی تعمیر کے نگران نواب زُلفقار خان تھے۔ یہ مسجد اُس وقت کی سب سے بڑی مسجد تھی اور تقریباً ایک لاکھ نمازیوں کی گنجائش رکھتی تھی۔ طرزِ تعمیر مسجد مغلیہ طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ یہ سرخ پتھر اور سنگِ مرمر سے تعمیر کی گئی۔ اس کے چاروں مینار 176 فٹ بلند ہیں۔ مرکزی گنبد بڑے سفید سنگِ مرمر سے بنے ہیں جو دور سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ مسجد کا صحن 278 × 139 میٹر ہے جو دنیا کے سب سے بڑے صحنوں میں شمار ہوتا ہے۔ تاریخی واقعات سکھ دور (1799ء – 1849ء) میں یہ مسجد سکھ حکمرانوں کے قبضے میں رہی اور اس کا استعمال فوجی چھاؤنی کے طور پر بھی کیا گیا۔ برطانوی دور میں بھی کچھ عرصہ تک یہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی، تاہم بعد میں مسلمانوں کو واپس دی گئی۔ آزادی کے بعد اسے ایک بار پھر اپنی اصل حالت میں بحال کیا گیا۔ موجودہ حیثیت آج بادشاہی مسجد لاہور کی سب سے بڑی مسجد ہے اور دنیا کی پانچویں بڑی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ لاہور قلعے کے سامنے واقع ہے اور پاکستان کی ایک عظیم شناخت اور سیاحتی مرکز ہے۔ یہاں نہ صرف عبادات ہوتی ہیں بلکہ یہ جگہ تاریخی ورثے کے طور پر بھی اہم ہے۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)