فلسطین کے لیے عالمی امدادی قافلہ “گلوبل صمود فلوتیلا” دنیا بھر کے عوامی ضمیر کی ایک جاندار علامت بن چکا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی محاصرہ کئی برسوں سے جاری ہے جس کے نتیجے میں خوراک، ادویات، بجلی اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا کہہ چکی ہیں کہ یہ محاصرہ انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ اسی پس منظر میں ایک بڑی عالمی مہم سامنے آئی جس کا نام ہے گلوبل صمود فلوتیلا۔ “صمود” عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے استقامت اور ثابت قدمی۔ یہ قافلہ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں، ڈاکٹروں، صحافیوں اور رضاکاروں پر مشتمل ہے۔ اس مہم کا مقصد بحری راستے سے غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرہ توڑنے کی علامتی کوشش ہے۔ تقریباً پچاس جہاز اور چوالیس ملکوں کے نمائندے اس مشن میں شامل ہیں۔ یہ مہم عوامی سطح پر ہے مگر کئی حکومتوں نے بھی کھل کر یا اعلانیہ حمایت کی ہے۔ ترکی نے مہم کی مضبوطی سے حمایت کی اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ امدادی جہازوں کو روکا نہ جائے۔ پاکستان کے کارکن اور ڈاکٹر بھی اس قافلے میں شریک ہیں اور حکومتِ پاکستان نے عالمی سطح پر اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انڈونیشیا کے تیس شہری اس مشن میں شریک ہیں اور حکومت نے مکمل سفارتی سہولت فراہم کی۔ اسپین اور اٹلی نے اپنے بحری جہاز روانہ کر کے قافلے کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھایا۔ قطر، عمان، ملائیشیا، جنوبی افریقہ، برازیل، آئرلینڈ، میکسیکو، بنگلہ دیش، لیبیا، مالدیوز، سلووینیا اور کولمبیا سمیت کئی دیگر ممالک نے مشترکہ بیانات کے ذریعے انسانی امداد کی حمایت کی اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا پابند رہنے کا کہا۔ یہ جہاز تونسیا کے ساحل لا گولیٹ سے روانہ ہوئے اور منصوبہ ہے کہ تمام جہاز مالٹا کے قریب جمع ہو کر ایک بڑے قافلے کی صورت میں غزہ پہنچیں۔ سامان میں خوراک، دوائیں، بچوں کا دودھ، طبی آلات اور خیمے شامل ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگ یا محاصرے کے دوران شہریوں تک امداد پہنچانا بنیادی حق ہے۔ شریک ممالک نے واضح کیا کہ جہازوں کو روکنا یا ان پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی اور مہم کا موقف ہے کہ امداد براہِ راست غزہ پہنچائی جائے۔ اس مہم کو کئی خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے کھل کر کہا ہے کہ بحری محاصرہ برقرار رہے گا اور کسی غیر قانونی داخلے کو روکا جائے گا۔ خراب موسم، ڈرون نگرانی اور مواصلاتی رکاوٹیں بھی خطرات میں شامل ہیں۔ بعض یورپی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس مہم سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ قافلہ صرف امداد نہیں بلکہ ایک عالمی پیغام ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اسے نمایاں کوریج دی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں، طلبہ اور عام عوام سوشل میڈیا پر بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ یہ قافلہ یاد دلاتا ہے کہ انسانی ہمدردی سرحدوں سے بالاتر ہے، غزہ کے لاکھوں افراد کے لیے یہ امید کی کرن ہے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے اور سیاسی قیادت پر دباؤ ڈال کر مستقبل میں امدادی راستے کھلوانے کا امکان بڑھاتا ہے۔ اگر یہ قافلہ کامیابی سے غزہ پہنچتا ہے تو یہ بین الاقوامی برادری کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے زیادہ دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ محاصرہ ختم کیا جائے اور یہ مہم آئندہ مزید امدادی قافلوں کی راہ ہموار کرے گی۔ گلوبل صمود فلوتیلا صرف امدادی جہازوں کا قافلہ نہیں بلکہ ایک عالمی پیغام ہے کہ انسانیت سرحدوں سے بڑی ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے مقابلے میں دنیا کے عام لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، چاہے خطرات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔ اگر یہ مہم کامیاب ہو گئی تو یہ فلسطینی عوام کے لیے نہ صرف خوراک بلکہ امید اور حوصلے کا قافلہ ثابت ہوگی۔
اق صی کی حرمتوں پر، ہر سر کو کٹائیں گے
سفینے جل بھی جائیں تو لہروں کو چیر آئیں گے
یہ عزم ہے ہمارا، نہ طوفاں سے گھبرائیں گے
ہم نہ باز آئیں گے، ہم نہ باز آئیں
گے
